آج یہ قلم اس شہید کے لیے اٹھائی ہے جس نے اپنی جان کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں آواز اٹھانے والے کا انجام موت ہے اور آواز اٹھانے والا چاہے گورنر ہو وزیر ہو یا ایک عام شہری،نتیجہ قتل ہے۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں اقلیتی وزیر شہید شہباز بھٹی کو خراجِ تحسین!۔
Those who sacrifice thank offerings honor me, and to the blameless I will show my salvation. ”