بہت سے دوستوں کی جواب طلبی پر کہ آخر کیوں ابھی تک صدر اقلیتی ونگ، برطانیہ برائے مسلم لیگ (ن) نے میرے کھُلے خط کا جواب نہیں دیا اس بلاگ انٹری کو تحریر کر رہا ہوں۔ قمر صاحب کا تو شاید ابھی تک جواب سیدھا نہیں ہو پا رہا لیکن امید کی جاتی ہے جب اُن کو قلم اور کاغذ نصیب ہو جائیگا تو جواب ارسال کر دیں گے۔ شاید ان کو جن کی صدرصاحب نمائندگی کرنیکا ذکر کرتے ہیں( یعنی اقلیت) خاصے بےچین ہیں اور انتظار میں ہیں کہ شاید موسم گرما کی آمد پرہی قمر صاحب اپنے سیاسی ونگ کو پھڑپھڑایں اور جواب دے دیں۔
کچھ خاص ذراءوں سے معلوم ہوا تھا کہ دراصل صدر صاحب نے خط پڑھ لیا ہے اور اپنے چند قریبی دوستوں سے مشورہ بھی لیا ہے اور جھوٹ ہی سہی، یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مستقبل قریب میں جواب ارسال کر دیا جایگا مگر افسوس کہ ابھی تک جواب دینے والے کو یا تو کاغذ کی قلعت کا سامنا ہے یا پھر درحقیقت جواب ہے ہی نہیں یہ تو خدا ہی جانتا ہے یاپھر صدر صاحب۔
انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ مُختلف حلقوں میں سوالاجات اُٹھنے کے باوجود صدر صاحب اور دیگر ارکان ونگ ابھی تک نامعلوم ہواءوں میں ونگ کی لڑکھڑاتی ہوئی پرواز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور شاید بہت زیادہ اونچائی کے باعث یا پھرڈر کے سبب سے نیچے دیکھنا گوارا نہیں کر رہے جہاں اقلیتی عوامالناس ان کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کے سبب سے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ عجیب طرز سیاست اپنایا ہے اور اتنی اونچی پرواز پر چلے گئے ہیں جناب عالی جہاں قلم ہی نہیں چل رہی اور جواب ارسال کرنے میں بھی خاصی دشواری کا سامنا ہے۔
صدر صاحب کی اس حرکت اور طرز سیاست کو دیکھ کر بس مرزا غالب کی غزل یاد آگئی جس کے چند اشعار جناب صدر کے نام کیے دیتے ہیں
| اردو | English Translation |
| کوءی امید بر نہیں آتی کوءی صورت نظر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کعبہ کس منہ سے جاءو گے غالب |
There is no hope to be foundThere is no resolution to be sought
Once I was able to laugh at the predicament of my heart
Thought I am aware of the rewards of prayer and virtue But I am prohibited by my disposition
Why shouldn’t I shout for I reminisce Yet my voice fails to produce any sound
I am in such a state, from where even I am Unable to get any news of myself
How will you go to Kaaba, O Ghalib! You do not bear any shame! |
میرا کامل بھروسہ ہے کہ قمر صاحب اس مختصر اظہار خیال کوکہ اُنہوں نے جواب کیوں نہیں دیا ضرور پرھیں گے لہذا میری ان سے پرزور التماس ہےکہ لوگ آپ کے جواب کے منتظر ہیں سو اپنے لیے نہ سہی لیکن قوم کی بھلائی کی غرض سے ہی جس کی نمائندگی کا ڈھنڈورہ آپ پیٹ رہے ہیں، لب کھولیے اور جواب دیجیے۔ میرا وعدہ ابھی بھی قائم ہے کہ آپ کا جواب تمام پڑھنے والوں تک اسی بلاگ کے ذریعے پُہنچایا جایگا۔
These views are personal opinions of the author and NOT of KalameKhuda.com
© 2011 Romael Noor






