ایسٹر کی اصل رُوح

ہم سالہا سال سے ایسٹر یعنی عیدِ قیامت المسیح تو منا رہے ہیں مگر اب بھی ہم میں بہت سے ایسے ہیں جو اس کو ایک تہوار کی صورت تو ضرور مناتے ہیں مگر اس کی اصل رُوح سے ناواقف ہیں۔ اُن کے لیے مسیح یسوع ہر ایسٹر کے ایسٹر ہی زِندہ ہوتا ہے اور ہر سال یہ کہانی یوں ہی چلتی آ رہی ہے۔ ہر سال ہمارے ایسے ہم مذہب افراد مُبارک جُمعہ کے دن ایسے بین کرتے اور افسردہ ہوتے ہیں جیسے یسوع ان کے سامنے مصلوب ہے مگر افسوس یہ کہ سال کے باقی ۳۶۴ دن جب مسیح ہمارے قول و فعل کی بدولت ابھی بھی صلیب ہی کی اذیت سے دوچار ہوتا ہے تب کوئی فرق نہیں پٹرتااور احساس بھی مُردہ رہتا ہے۔ بس اسی طرح ہر سال ہمارے بُہت سے افراد گُڈ فرائیڈے کے دن گرجا گھر یسوع کی صُولی دیکھنے آتے ہیں اور پھر ایسٹر کے روز زندہ یسوع کو ڈھونڈنے آجاتے ہیں جو کہ انہی کے لاپتہ ہوجانے کے باعث اب ان کو ڈھونڈنے نکلا ہُوا ہے۔

یہ کہانی تو صدیوں سے چلتی آ رہی ہے۔ ایسٹر پر نئے کپٹرے بنوانا، الصُبح ایسٹر کے جلوس میں شریک ہونا، نعرے لگانا وغیرہ وغیرہ۔عجیب بات یہ ہے کہ بُہت سے لوگ ایسٹر پر یسوع کو ڈھونڈنے کی غرض سے گرجا گھر آ تو جاتے ہیں مگر باقی کا سارا سال یسوع خُود ان کو ڈھونڈتا پھرتا ہے جس کا ان کو کوئی خیال نہیں۔ یسوع کے جی اُٹھنے کی خُوشخبری سُن سُنا کر اور ایک دُوسرے کو مُبارکباد بھی دے کر یقین تو کر لیتے ہیں کہ آج یسوع کے جی اُٹھنے کی خوشی منا رہے ہیں مگر پھر اس احساس سے بھی باغ باغ ہوجاتے ہیں کہ کیونکہ اب یسوع اُٹھ چُکا ہے اب تلاش کرنے کی باری اُس کی ہے۔
بعض تو اس حد تک مروت ہیںکہ اگر کپٹرے نئے نہ ہوں توایسٹر کے دن بھی گرجے جانا سوالیہ نشان بن جاتا ہے مگر توجہ کپٹروں تک ہی محدود ہوتی ہے اور دل کے صاف اور ایمان کے تازہ ہونے کی کوئی فِکر نہیں۔ ایسوں کا یہ ماننا ہے کہ گرجا گھر جانے کے لیے کپٹرے کیوں کہ دکھائی دیتے ہیں لہذا اُن کا صاف سُتھرا اور نیا ہونا لازمی و ملزوم ہے مگر دِل کون سا کسی کو دکھائی دیتا ہے، لہذا اُس کی کوئی بات نہیں۔

یسوع المسیح جو تقریباً دو ہزار برس قبل ہمارے لیے مُوا، مُردوں میں سے جی اُٹھا اور آسمان پر باپ کی داہنی طرج بیٹھا ہے، اس کو ناجانے کیوں ہم لوگ سارا سال اپنے کاموں اور اُس کی نافرمانی کے باعث مارنے کی جُستجو میں رہتے ہیں اور پھر مُبارک جُمعہ کے دن تسلی کرنے کی غرض سے کہ کام مُکمل ہوا ہے یا نہیں گرجے گھر چلے جاتے ہیں اور پھر ایسٹر کے روز اس کے زندہ ہوجانے کی خبر لینے کے بعد سارا سال پھر اپنے اُسی پرانے مِشن پر لگ جاتے ہیں۔ صد افسوس کہ یہ ہے ہم میں سے بُہتیروں کا ایسٹر۔

اگر تو آپ میرے اس طنزیہ بیان کو سمجھ سکے ہیں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں اور سوچتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی بات ماضی میں تھی بھی تو اب باقی نہ رہے گی تو پھر آپ کو اُس یسوع کے جی اُٹھنے کی مُبارک ہو جو ابدالآباد جیتا رہے گا اور سلطنت کرتا رہے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کو محض اس بات کی مُبارک ہو کہ خُداوند نے اپنے فضل کی بدولت آپ کو ایک اور موقع دیا ہے اور اب بھی وقت ہے۔۔۔

These views are personal opinions of the author and NOT of KalameKhuda.com

© 2011 Romael Noor

 

Share
© 2010 - 2012 Romael Noor
Go To Top