اقبال تیرے دیس کا کیا حال سُناﺅں دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاﺅں ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاﺅں اِقبال تیرے دیس کا کیا حال سُناﺅں جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نصب کے اُگتے ہیں تہہ سایہِ گُل خار غصب کے یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں
(Read More…)






