قیامِ پاکستان کو گو ۶ دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت چُکا ہے اور آج قراردادِ پاکستان کو پیش کئے جب کہ ۷۲ سال ہو چُکے ہیں، مُلک کی حالت خستہ اور عوام مسائل میں پِس رہے ہیں۔
خوشی اس بات کی ہے کہ مُلک تو مل گیا مگر افسوس اس کا کہ اس ملک کو چلانے والی قیادت ابھی تک نہیں مل سکی۔ یہ دیس جسکا حصول لاتعداد قربانیوں اور انتھک کاوشوں کے بعد ہُوا آج ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں اس کے اپنے ہی باسی اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ آج اس مُلک کی حالت اگر اس کے قیام کے دِنوں سے زیادہ بُری نہیں تو یقیناً بُہت اچھی بھی نہیں۔ اس ملک کا ہر حُب الوطن شہری اس ملک سے پیار کرتا ہے، اس کو پروردِگار نے ہر طرح کی نعمت سے نواز رکھا ہے، مگر پھر بھی اس ملک کی بدقسمتی کے اسکو جتنے بھی لیڈران مِلے، وہ یا تو اسے ہی نُقصان پہنچاتے رہے اور اگر درجنوں میں کوئی اس سے مُخلص رہا تو اسکو اس سسٹم نے مُخلص نہ رہنے دیا۔
آج جبکہ قوم دل کو دلاسا دیتے ہوئے ۲۳ مارچ منا رہی ہے تو کتنے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں کہ اس واسطے تو ملک بنایا ہی نہیں تھا۔
کہاں گیا وہ اقبال کا خواب اور کہاں گیا وہ قائدِ اعظم مُحمد علی جناح کے افعال کا ثمر۔ ہم ایسی قوم نکلے جنہوں نے اپنے اصل قائدین کو تاریخ میں سے بھی کاٹ ڈال اور دلوں میں تو شائد وہ ہمارے کبھی بس ہی نہ سکے۔
ہر آنے والی حکومت اس قوم سے کئی وعدے کرتی ہے جوکہ کبھی پورے نہیں ہوسکے۔ کسی کے پاس وسائل کی کمی کا بہانہ ہوتا ہے تو کسی کے پاس گزشتہ حکومت کا دیا ہوا بیکلاگ۔ کئی عہدہدران سفارشی عملہ بھرتی کرلیتے ہیں اور قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کئیوں کا تو یہ حال ہے کہ جو کسی قابل نہیں اُسے حکومت کے قابل سمجھا جاتا ہے۔
کاش کہ کبھی یہ قوم جاگ جائے۔ ملک کیلئے انکی غیرت جاگ اصل معنوں میں جاگ اُٹھے اور یہ اُن باتوں پر عمل پیرا ہوں جو ترقی کو فروغ دیتی ہیں اور اپنے اُن حقیقی لیڈران کے اقوال کو سامنے رکھتے ہُوئے اس مُلک کو چلائیں جن کی کاوشوں اور قربانیوں کا یہ ملک نتیجہ ہے۔
آپ سب کو ۲۳ مارچ مبارک ہو۔
These views are personal opinions of the author and NOT of KalameKhuda.com
© 2012 Romael Noor







