نیا سال

اصول کے مطابق تو ابتدأ غیر حاضری کی معزرت سے کی جانی چاہیئے اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ وقت انتہائی مصروف گزرا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا سال بیت گیا۔ اس دوران متعدد بار کوشش کی کہ بلاگ لکھنے کے اس سلسلے کو جاری رکھا جاسکے مگر وقت کی قلعت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ لہذا اسی تحریر کو اس گزرتے برس کی آخری مگر آنےوالے سال، ۲۰۱۲ کی اول تحریر تصور کر رہا ہوں اور پھر سے پرامید ہوں کہ اس سال پچھلے سال کی طرح غیرحاضریوں کا سلسلہ قائم نہیں رہےگا بلکہ لکھنے کی اس مشق کو جس حد تک ممکن ہوسکے ترجیح دی جائےگی۔ (more…)

Share

Updates

Welcoming back myself to this blog and writing activity after some time due to other commitments that kept me busy for a while.

It has now been over a month since last entry was made to this blog and within this time many developments have taken place here in the UK with respect to Pakistani Christian politics and some of those are worth mentioning. (more…)

Share

شرم تم کو مگر نہیں آتی (President of Minority Wing UK, PML-N)

بہت سے دوستوں کی جواب طلبی  پر کہ آخر کیوں ابھی تک صدر اقلیتی ونگ، برطانیہ  برائے مسلم لیگ (ن) نے  میرے کھُلے خط کا جواب نہیں دیا اس بلاگ انٹری کو تحریر کر رہا ہوں۔ قمر صاحب کا تو شاید ابھی تک جواب سیدھا نہیں ہو پا رہا لیکن امید کی جاتی ہے جب اُن کو قلم اور کاغذ نصیب ہو جائیگا تو جواب ارسال کر دیں گے۔ شاید ان کو جن کی صدرصاحب نمائندگی کرنیکا  ذکر کرتے ہیں( یعنی اقلیت) خاصے بےچین ہیں اور انتظار میں ہیں کہ شاید موسم گرما کی آمد پرہی قمر صاحب اپنے سیاسی ونگ کو پھڑپھڑایں اور جواب دے دیں۔

(more…)

Share

ایسٹر کی اصل رُوح

ہم سالہا سال سے ایسٹر یعنی عیدِ قیامت المسیح تو منا رہے ہیں مگر اب بھی ہم میں بہت سے ایسے ہیں جو اس کو ایک تہوار کی صورت تو ضرور مناتے ہیں مگر اس کی اصل رُوح سے ناواقف ہیں۔ اُن کے لیے مسیح یسوع ہر ایسٹر کے ایسٹر ہی زِندہ ہوتا ہے اور ہر سال یہ کہانی یوں ہی چلتی آ رہی ہے۔ ہر سال ہمارے ایسے ہم مذہب افراد مُبارک جُمعہ کے دن ایسے بین کرتے اور افسردہ ہوتے ہیں جیسے یسوع ان کے سامنے مصلوب ہے مگر افسوس یہ کہ سال کے باقی ۳۶۴ دن جب مسیح ہمارے قول و فعل کی بدولت ابھی بھی صلیب ہی کی اذیت سے دوچار ہوتا ہے تب کوئی فرق نہیں پٹرتااور احساس بھی مُردہ رہتا ہے۔ بس اسی طرح ہر سال ہمارے بُہت سے افراد گُڈ فرائیڈے کے دن گرجا گھر یسوع کی صُولی دیکھنے آتے ہیں اور پھر ایسٹر کے روز زندہ یسوع کو ڈھونڈنے آجاتے ہیں جو کہ انہی کے لاپتہ ہوجانے کے باعث اب ان کو ڈھونڈنے نکلا (more…)

Share
© 2010 - 2012 Romael Noor